نئی دہلی، 13؍ جون(ایس او نیوز؍ایجنسی ) دہلی ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ شکایت موصول ہونے کے بعد، ایک پولیس افسر ایف آئی آر درج کیے بغیرکسی شخص کو پوچھ گچھ کیلئے پولیس اسٹیشن نہیں بلاسکتا۔ ہائی کورٹ نے سی آر پی سی کی دفعہ 160 کے تحت پنجاب پولیس کے سائبر سیل کی جانب سے جاری کیے گئے تین سمن کو کا لعدم قرار دیتے ہوئے یہ تبصرہ کیا ۔
لائیو ہندوستان کے مطابق جسٹس چندر دھاری سنگھ نے اپنے فیصلے میں سی آر پی سی کی دفعہ 160 کے التزامات کا تفصیل سے حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر درج کیے بغیر تفتیش شروع ہونے کی بات نہیں کی جاسکتی ۔ انہوں نے کہا ہے کہ تفتیش کے قانونی اور درست ہونے کیلئے پولیس افسر کوسی آر پی سی کی دفعات کے مطابق کام کرنا ہوگا ۔ یہی نہیں ، ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ ایک پولیس افسر مجسٹریٹ کور پورٹ کیے بغیر ابتدائی تحقیقات کر کے اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کر سکتا۔
عدالت نے کہا ہے کہ سی آر پی سی کے سیکشن 160 کے تحت سمن نوٹس ایک پولیس افسر کی جانب سے جاری کیا جاسکتا ہے جوی آر پی سی کی دفعات کے تحت شکایت کی تحقیقات کر رہا ہے لیکن اس سے پہلے کہ اس طرح کی تفتیش شروع کی جاۓ ،ایف آئی آر درج کرنے کی ضرورت ہے۔
تمام حقائق پرغور کرنے کے بعد، ہائی کورٹ نے کلوندرسنگھ کو ہلی کے خلاف 25 جنوری، 25 فروری اور 9 مارچ 2022 کوسی آر پی سی کی دفعہ 160 کے تحت جاری کیے گئے سمن کومنسوخ کر دیا ہے۔ہائی کورٹ نے یہ حکم کلو ند سنگھ کی عرضی پر دیا ہے۔ انہوں نے موہالی کے ایس اے ایس نگر میں واقع پنجاب پولیس کے سائبر سیل کی طرف سے جاری سمن کو چیلنج کیا تھا اور اسے منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
دہلی کے رہائشی اور پیشے سے وکیل عرضی گزارکلوندرسنگھ کو بلی کے خلاف شکایت کی جانچ کے سلسلے میں سی آر پی سی کی دفعہ 160 کے تحت سمن جاری کر کے پنجاب پولیس نے صاحبزادہ اجیت سنگھ (ایس اے ایس ) نگر واقع سائبر سیل تھانے میں ذاتی طور سے پیش ہونے کی ہدایت دی تھی۔درخواست گزار کے خلاف راج بکرم دیپ سنگھ اور ان کے بیٹے منجن پر یت سنگھ کی جانب سے سوشیل میڈیا پر بابا جگردپ سنگھ کی موت کے حوالے سے جیوت دیپ سنگھ پر جھوٹے الزامات لگانے اور قابل اعتراض الفاظ استعمال کرنے کی شکایت درج کروائی گئی تھی۔